امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کو تلقین کی ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے افغان امن مذاکرات میں تعمیری کردار ادا کریں۔پرائس نے کہا کہ ایران اس ضمن میں مذاکرات کے لیے مدعو کر کے جو کچھ کرنے کی کوشش کر رہا ہے یا کرنے کے عمل سے گذر رہا ہے وہ تعمیری ہونی چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی فیصلہ ہو سکا ہے۔

بلاشبہ اس پر اہم نے ایرانیوں سے کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا ہے۔ کافی عرصہ سے افغانستان کے بیشتر پڑوسی یہ دیکھ کر خوش تھے کہ امریکہ افغانستان کو دیکھ رہا ہے اور ہم تن تنہا ہی وہاں مصروف عمل تھے۔ لیکن اگر وہاں واقعتاً پائیدار اور دائمی تصفیہ اور مکمل جنگ بندی کرنا ہے تو اس میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کو مدد کرنا ہو گی۔اور ہمیں امید ہے کہ وہ بھی ذمہ دار پڑوسی کے طور پر اقدام کریں گے۔بدھ کے روز گروپ کے مذاکرات کار اعلیٰ شیر محمد عباس استانک زئی نے تہران میں ایران کے وزیر کارجہ محمد جواد ظریف اور دیگر ایرانی عہدیداروں سے ملاقات کی ۔

توقع ہے کہ طالبانی وفد سابق افغان نائب صدر یونس قانونی سے بھی جو کابل سے تہران روانہ ہو چکے ہیں، ملاقات کرے گا۔ دوحہ میں طالبان ترجمان محمد نعیم نے ٹویٹر کے توسط سے کہا کہ طالبان وفد دو طرفہ امور پر طالبان سے بات کرے گا۔ایراانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے تہران میں طالبان کے ساتھ ایک میٹنگ میں کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ غیر ملکی حملہ کے د خلاف افغان عوام کے جہاد میں ہم اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کی حمایت میں پیش پیش رہے۔

اپنی رائے دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here